ہفتہ، 27 مئی، 2023

ابھی رات گہری ہے ....

 

ابھی رات گہری ہے 

ابھی اسکو بھی تو ڈھلنا ہے 

انہی اندھیروں سے ہو کر ہی

تیرے اُجالوں سے ملنا ہے 

زندگی  تقاضا روز ایک نیا لے کر 

حوصلوں کو آواز دیتی ہے 

رفتار وقت کی بھلا 

کہاں دل کی سنتی ہے 

  وہ  تو دھڑکنوں سے بھی تیزتر  ہے 

مگر حال کی چکی ماضی کے پاٹوں میں   

زندگی کا ہر خواب پیستا ہے 

غریب کی آرزو کا رنگ 

کیاواقعی اتنا سستا ہے 

دل تو پھر بھی دل ہے 

انہی جلتےبجھتے   پلوں میں  بھی 

خود کو روشن کر ہی لیتا ہے 

یہ کریمی تیری حکمت ہے 

یہ تیری عطاتیری عنایت ہے 

تیرے بندے کی فطرت میں 

تیری ہی محبت ہے 

منگل، 23 مئی، 2023

اے دل یہی منزل ہے...........



سنو اے  دل یہی منزل ہے 

تم میں ازل سے ہی شامل ہے 

راہیں تو بہت سی ہیں  

مگر تمہارے پاس ایک ہی دل ہے 

   خواہشیں ہزاروں ہیں  

جنہیں پانا مشکل ہے 

 کبھی سوچا  یہ حسن فطرت کا 

ایک حسین تحفہ ہے 

جو تیری ذات میں  شامل ہے 

گر دنیا مل بھی جاتی 

 گر تیرا دل ،دل نہیں ہوتا 

جو اپنے آپ میں  کامل ہے 

خالی گھر کی ویرانی 

بے سکونی  اور پریشانی 

پل میں دور ہوجاے 

شمع دل کی گر روشن ہو  

تو سب کچھ نظر آے 

تیرا دل جان ہی لیگا

خوبی اپنی پہچان ہی لیگا 

سیری اسی کو ہوتی ہے حاصل 

جو خود موج  ہو خود ساحل   

آدم کا سبق اول 

خاک کی امانت ہے 

  عجز   خاکی  کی تیاری ہے 

تم  میں  وہی تو شامل ہے 



پیر، 15 مئی، 2023

زندگی پل دو پل کی خوشی کا سامان ہے...........

 

کبھی تنہا مجھے پاؤ میرے ہوجاؤ

کبھی ہجر  میں   بھی قریب آجاؤ   

تمہاری قربتوں کے صدقے  میں 

بھول جاوں  دنیا کے غم  سارے

تمہاری خاموشیوں کے ستم سارے  

مگر ایسا ہو نہیں سکتا 

گزرا پل لوٹ کر آ نہیں سکتا 

 تم نے بسالی ہے  نئی  دنیا 

میری دنیا اب نہیں تمہاری دنیا 

 تم اورمیں اب دو کنارے  ہیں 

ہم تم  صدیوں سے  بیچارے   ہیں   

درمیان فصیل زندگی کی  ہے

جہاں مرضی خدا کی ہے 

چاہنا انسان کی فطرت ہے

ملنا تیری مرضی تیری قدرت ہے     

تمہاری دنیا میں  کیا یادوں کا موسم ہے

میری دنیا میں تمہارا ہی  غم   ہے  

تمہاری یاد میں  وقت بھی گم  ہے

وہ   سارے بیتے برس  یہی کہتے ہیں 

ہم تجھ میں    ہی رہتے ہیں

کیا واقع اس کہانی کا یہی عنوان ہے 

 زندگی پل دو پل کی  خوشی کا سامان ہے  

جمعرات، 11 مئی، 2023

آہٹیں اسکی پہچان لوگے..

 



میرے سنگ سفر گر کروگے 

خود کو جان لوگے 

اپنے دل کا کہا 

پھر سے مان  لوگے 

جو آنکھیں موندے پڑا ہے

جگانے کی ٹھان  لوگے   

سنولے  نبض کی کبھی 

آہٹیں اسکی پہچان لوگے

کہ رہا ہے شام و سویرے 

پیام میرا ہرآن   لوگے  

دوستو سنو مومنوں کی  نشانی 

انکی زبانی میری زبان لوگے 

 گر زندگی دنیا کی نظر  کروگے 

 ملاقات کا  کیسے  سامان  کروگے 

میں منتظر ہوں تمہاری آرزو کا

ا پنے شرف کو نہ رایگان کروگے 

  محبت کی ہی خاطر محبوب دنیا میں آے

گر جان لوگے راہ اپنی آسان کروگے  


جمعہ، 5 مئی، 2023

محو رقص ہے دیوانگی

     

  

مدّتوں کی  چاہ کو  راہ مل گئی  

منز ل کی تلاش میں عمر نکل گئی 

 یہ سودا شوق کا  ہر دور میں  ہے جاوداں ہے

یہ تمام عمر کی آرزو   مہربان  ہے

سرحدوں میں  کب  بٹی عشق   کی  زباں ہے    

  آج ہاتھ آیا  ہے عکس تیرا   

 روپوش تھا جو کل تلک 

  محو  رقص ہے اب   دیوانگی 

کیف ہے کے خود مدہوش ہے 

ہوش کے ہوش بھی ہیں اڈے اڈے  

 جھومتے  لفظ خیال کو   چومتے ہیں

اس سرور کے گرد    گھومتے ہیں

سوچا کئے     اپنی دعا    کا مرتبہ   

کبھی بولتا ہے  جب  خود میں  خدا   

میری خوشی کی آج کوئی انتہا نہیں 

تجھ کو پا کر جان گئی  ہوں میں    

جمعرات، 4 مئی، 2023

تیرا سفر ہے میرا سفر


اے  بندے مایوس نہ ہو  

میری ذات تیری ذات سے 

نہ جدا ہے نہ الگ  

میں  تجھ سے ہوں قریب تر

 تیرا سفر ہے میرا سفر 

ہمہ وقت تجھ پر ہے نظر 

تیری مشکلیں ہیں میری 

تیرےغم ہیں میرے غم

تو نہیں جانتا میری حکمتیں

تیری بیقراریاں ورنہ ہوجاتین  کم 

یہ گردشیں ہیں شاہد حق 

 ڈھونڈتا گر تو  رب کی رضا 

بنا لیتا انہیں  مراد  اپنی با خدا  

درد ہی میری یاد ہے

تیرا  غم  ہے الفت میری 

میرا حاصل جستجو تیری 

تو نہیں تو یہ جہاں بھی نہیں

میں  یہاں نہیں تو کہیں نہیں

میراآ ینه تیری  ذات   ہے

ورنہ بندے تجھ میں  کیا بات ہے

کھول دے کھڑکیاں غرور کی 

حق کو بهیتر  آنے دے 

تیری ذات کو سنور جانے دے 

خدا چاہتا ہے تیری فلاح

اسی کی خاطر قایم کی صلاح

کے ہر وقت ہو  تو  روبرو

وہی ہےتیرے  سانسوں کی "ہو  

بدھ، 3 مئی، 2023

ہاں مجھ کو مل گیا میرا خدا


ہواؤں میں مہکتی ہوئی سرگوشیاں 

شور کرتی ہوئی یہ خاموشیاں 

بات کرتی ہوئی تنہائیاں 

یہی تو ہیں میرے رازداں 

یہی قاصد ہیں میرے 

فاصلوں کو سمیٹتے 

مجھ میں تم کو ٹٹولتے 

مایوسیوں کو جھیلتے 

اپنے خیال سے  کھیلتے 

چلے ہیں صحراون کی طرف

کے کہیں کوئی تارا سنگ ہو 

کہیں کوئی اعلان دبنگ ہو

کے تیرے دل کو بھی انہی 

چاہتوں کی تلاش ہے 

تیرے میرے درمیان 

یہی ایک رابطہ خاص ہے 

تیری چاہتیں وسعتوں کی چاه تھیں

میرا محور  تھیں تیری چاہتیں 

محفل میں  تیری ہم بھی تھے

یہ اور بات ہے حبیب 

ہمارے اور ہی نصیب تھے 

دل اور دعا کا ایک ہی راستہ  

انسے ہوکر ملتا ہے خدا 

سو مجھے تو نہ ملا 

ہاں مجھ کو مل گیا میرا خدا

یہ رنگ..............

یہ رنگ عجلتوں میں بکھر گئے ہیں   صدیوں   ترتیب جنکی  ایکسی رہی تھی    وہ  آج اپنی حدوں سے نکل گئے ہیں شاید یہ اپنی آزادی  منانا  چاہتے ہیں  ...