ابھی رات گہری ہے
ابھی اسکو بھی تو ڈھلنا ہے
انہی اندھیروں سے ہو کر ہی
تیرے اُجالوں سے ملنا ہے
زندگی تقاضا روز ایک نیا لے کر
حوصلوں کو آواز دیتی ہے
رفتار وقت کی بھلا
کہاں دل کی سنتی ہے
وہ تو دھڑکنوں سے بھی تیزتر ہے
مگر حال کی چکی ماضی کے پاٹوں میں
زندگی کا ہر خواب پیستا ہے
غریب کی آرزو کا رنگ
کیاواقعی اتنا سستا ہے
دل تو پھر بھی دل ہے
انہی جلتےبجھتے پلوں میں بھی
خود کو روشن کر ہی لیتا ہے
یہ کریمی تیری حکمت ہے
یہ تیری عطاتیری عنایت ہے
تیرے بندے کی فطرت میں
تیری ہی محبت ہے

.jpg)

.jpg)


