میرے سنگ سفر گر کروگے
خود کو جان لوگے
اپنے دل کا کہا
پھر سے مان لوگے
جو آنکھیں موندے پڑا ہے
جگانے کی ٹھان لوگے
سنولے نبض کی کبھی
آہٹیں اسکی پہچان لوگے
کہ رہا ہے شام و سویرے
پیام میرا ہرآن لوگے
دوستو سنو مومنوں کی نشانی
انکی زبانی میری زبان لوگے
گر زندگی دنیا کی نظر کروگے
ملاقات کا کیسے سامان کروگے
میں منتظر ہوں تمہاری آرزو کا
ا پنے شرف کو نہ رایگان کروگے
محبت کی ہی خاطر محبوب دنیا میں آے
گر جان لوگے راہ اپنی آسان کروگے
.jpg)
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں