اتوار، 13 اگست، 2023

زندگی نے پھر سے ............



زندگی نے پھر سے 

مزاج اپنا بدلا 

پھر سے جسم-و-جان میں 

ایک فاصلہ ہو چلا ہے  

اس رات کے سفر کا 

اختتام ہی  ہو نہ  پایا 

آنکھوں کو تاریکیوں کی 

سنگت جو  مل گئی ہے  

اب بھلا کیسا سویرا 

کہاں کی روشنی ہے  

دنیا کے سارے اجالے 

ماند  پڑ  گئے  ہیں   

خود سے بات کرتی ہوئی 

سوچ سے رغبت سی ہوگئی ہے 

آخر   یہ پڑاؤ کونسا ہے 

   کاروان  کیوں   رک  گیا ہے 

صحرا سناٹوں کا ہے عادی 

دل آواز کیوں دے رہا ہے 

جانے والوں کی یہ نہیں ہے منزل 

کب سے تجھ کو سمجھا رہا ہے    

اتوار، 6 اگست، 2023

اے ہم زبان میری .....



اے  ہم زبان میری 

تو  ہے زبان میری 

تیرے ہی دم سے 

سجی کل کائنات ہے میری 

گر تو نہیں ہوتی 

 غم  حسین نہیں ہوتے 

پھر  محبت زبان   نہیں ہوتی 

نہ اسکے رنگین ستم ہوتے 

یہ لفظ پیرہن ہیں دل کے 

یہ  مرہم  ہیں  زخموں کے 

ورنہ بات کوئی  کہاں ہوتی 

وجہ جینے کی جسے سمجھے 

انہی کے ہاتھوں میں  جان ہوتی  

یہ رنگ..............

یہ رنگ عجلتوں میں بکھر گئے ہیں   صدیوں   ترتیب جنکی  ایکسی رہی تھی    وہ  آج اپنی حدوں سے نکل گئے ہیں شاید یہ اپنی آزادی  منانا  چاہتے ہیں  ...