مدّتوں کی چاہ کو راہ مل گئی
منز ل کی تلاش میں عمر نکل گئی
یہ سودا شوق کا ہر دور میں ہے جاوداں ہے
یہ تمام عمر کی آرزو مہربان ہے
سرحدوں میں کب بٹی عشق کی زباں ہے
آج ہاتھ آیا ہے عکس تیرا
روپوش تھا جو کل تلک
محو رقص ہے اب دیوانگی
کیف ہے کے خود مدہوش ہے
ہوش کے ہوش بھی ہیں اڈے اڈے
جھومتے لفظ خیال کو چومتے ہیں
اس سرور کے گرد گھومتے ہیں
سوچا کئے اپنی دعا کا مرتبہ
کبھی بولتا ہے جب خود میں خدا
میری خوشی کی آج کوئی انتہا نہیں
تجھ کو پا کر جان گئی ہوں میں

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں