کبھی تنہا مجھے پاؤ میرے ہوجاؤ
کبھی ہجر میں بھی قریب آجاؤ
تمہاری قربتوں کے صدقے میں
بھول جاوں دنیا کے غم سارے
تمہاری خاموشیوں کے ستم سارے
مگر ایسا ہو نہیں سکتا
گزرا پل لوٹ کر آ نہیں سکتا
تم نے بسالی ہے نئی دنیا
میری دنیا اب نہیں تمہاری دنیا
تم اورمیں اب دو کنارے ہیں
ہم تم صدیوں سے بیچارے ہیں
درمیان فصیل زندگی کی ہے
جہاں مرضی خدا کی ہے
چاہنا انسان کی فطرت ہے
ملنا تیری مرضی تیری قدرت ہے
تمہاری دنیا میں کیا یادوں کا موسم ہے
میری دنیا میں تمہارا ہی غم ہے
تمہاری یاد میں وقت بھی گم ہے
وہ سارے بیتے برس یہی کہتے ہیں
ہم تجھ میں ہی رہتے ہیں
کیا واقع اس کہانی کا یہی عنوان ہے
زندگی پل دو پل کی خوشی کا سامان ہے

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں