جمعرات، 4 مئی، 2023

تیرا سفر ہے میرا سفر


اے  بندے مایوس نہ ہو  

میری ذات تیری ذات سے 

نہ جدا ہے نہ الگ  

میں  تجھ سے ہوں قریب تر

 تیرا سفر ہے میرا سفر 

ہمہ وقت تجھ پر ہے نظر 

تیری مشکلیں ہیں میری 

تیرےغم ہیں میرے غم

تو نہیں جانتا میری حکمتیں

تیری بیقراریاں ورنہ ہوجاتین  کم 

یہ گردشیں ہیں شاہد حق 

 ڈھونڈتا گر تو  رب کی رضا 

بنا لیتا انہیں  مراد  اپنی با خدا  

درد ہی میری یاد ہے

تیرا  غم  ہے الفت میری 

میرا حاصل جستجو تیری 

تو نہیں تو یہ جہاں بھی نہیں

میں  یہاں نہیں تو کہیں نہیں

میراآ ینه تیری  ذات   ہے

ورنہ بندے تجھ میں  کیا بات ہے

کھول دے کھڑکیاں غرور کی 

حق کو بهیتر  آنے دے 

تیری ذات کو سنور جانے دے 

خدا چاہتا ہے تیری فلاح

اسی کی خاطر قایم کی صلاح

کے ہر وقت ہو  تو  روبرو

وہی ہےتیرے  سانسوں کی "ہو  

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

یہ رنگ..............

یہ رنگ عجلتوں میں بکھر گئے ہیں   صدیوں   ترتیب جنکی  ایکسی رہی تھی    وہ  آج اپنی حدوں سے نکل گئے ہیں شاید یہ اپنی آزادی  منانا  چاہتے ہیں  ...