میری ذات تیری ذات سے
نہ جدا ہے نہ الگ
میں تجھ سے ہوں قریب تر
تیرا سفر ہے میرا سفر
ہمہ وقت تجھ پر ہے نظر
تیری مشکلیں ہیں میری
تیرےغم ہیں میرے غم
تو نہیں جانتا میری حکمتیں
تیری بیقراریاں ورنہ ہوجاتین کم
یہ گردشیں ہیں شاہد حق
ڈھونڈتا گر تو رب کی رضا
بنا لیتا انہیں مراد اپنی با خدا
درد ہی میری یاد ہے
تیرا غم ہے الفت میری
میرا حاصل جستجو تیری
تو نہیں تو یہ جہاں بھی نہیں
میں یہاں نہیں تو کہیں نہیں
میراآ ینه تیری ذات ہے
ورنہ بندے تجھ میں کیا بات ہے
کھول دے کھڑکیاں غرور کی
حق کو بهیتر آنے دے
تیری ذات کو سنور جانے دے
خدا چاہتا ہے تیری فلاح
اسی کی خاطر قایم کی صلاح
کے ہر وقت ہو تو روبرو
وہی ہےتیرے سانسوں کی "ہو

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں