بدھ، 16 اپریل، 2025

یہ رنگ..............




یہ رنگ عجلتوں میں بکھر گئے ہیں 

 صدیوں  ترتیب جنکی ایکسی رہی تھی  

 وہ  آج اپنی حدوں سے نکل گئے ہیں

شاید یہ اپنی آزادی  منانا  چاہتے ہیں 

اپنے رنگ گمشدہ پھر سے پانا چاہتے ہیں 

قوس و قزح  نے مسترد کر دیا تھا جسکو 

 وہ  آسمانوں میں  اپنی جگہ بنانا چاہتے ہیں 

جنہیں گماں تھا اپنی رنگین منافقت کا 

انہیں آئینہ حقیقتوں کا  دکھانا چاہتے ہیں

یہ عکس  ہیں   خوشی کے دلبری کی ادا ہیں 

تمھیں    شہکار قدرت   بنی نو  بنانا چاہتے ہیں 

چلو چھوڑو بھی  رنگارنگی  کے یہ جھگڑے 

یہ رنگ تمہاری فطرتوں کو آزمانا چاہتے ہیں 

کبھی گر ملے  تم کو فرصت ، ذرا غور کرنا 

یہ رنگ ہیں تمہارے ،تمھیں پانا چاہتے ہیں 

انہی میں  چھپی ہوئی ہے  پہچان آدمی کی 

اپنی پہچان کی ہی خاطر ایک  رنگ ہونا چاہتے ہیں 

جمعرات، 29 فروری، 2024

آ کےمیں تجھے پھر ..........


آ کےمیں تجھے پھر  

روداد اپنے دل کی 

سنانا چاہتی ہوں 

اس خاموش دل کو 

پھر ستانا چاہتی ہوں 

یہی تو ہے دل کا مسلک 

خود درد جھیلے

پہلے خود ٹھوکروں سے کھیلے 

ہر خطا  سے پہلے 

ہر الزام سر اپنے لے لے 

دنیا کی بے رخی  نئی  تو نہیں ہے  

اے دل تو اسے بار بار جی لے 

کے  یہی ہے سفرآگہی کا  

تو بس لبوں کو اپنے سی لے 

کے یہ سبق تیرے لئے ہے 

یہ باب تیرے لئے ہیں کھولے 

انہی میں تجھے اب 

سنائی دینگے اپنے نالے 

عمر بھر کی اس تڑپ  کو  

  تیرے اشک   تنہا  جھیلے 

کوئی  غم  نہیں ہے 

ایک اور غم  تو پی لے 

یہ عطیہ دوست کا ہے 

تہ  دل سے اس کو جی لے  

اتوار، 17 دسمبر، 2023

یہاں ہر کوئی اجنبی ہے............



مجھ کو پتا نہیں ہے 

میں  کہاں آگئی ہوں 

یہاں ہر کوئی اجنبی ہے 

میری جگہ کہیں نہیں ہے 

یہ کیا ستم ہوا ہے 

کیا میرا ہونا ہی خطا ہے 

بس مجھ کو  یہ  پتا ہے 

یہ  برسوں  کی  کاشتکاری 

کسی کی ہو کے رہ گی ہے 

 آج میرا سایا بھی نہ  جانے 

کیوں مجھ سے دور لگ رہا ہے 

شاید یہ بھی  داتا  کی ہے حکیمی 

جو تنہائیوں میں بھی میرا ہے 

میری اداسیوں میں گھل گیا ہے 

کہتا ہےاب   بھی تو میری ہے  

تب  بھی میری تھی  جب تو کہیں نہیں تھی 

پھر یہ درد کیوں اٹھ رہا ہے 

یہ خود سےگلہ  سا کیوں ہوا ہے 

اے  کاش زندگی تو مجھ کو گلے لگاتی 

میں بھی تیرا ہونا جان پاتی 

مگر اب تو وقت ہو چلا ہے 

تیرے میرے  درمیان مختصرسا فاصلہ  ہے  

اتوار، 13 اگست، 2023

زندگی نے پھر سے ............



زندگی نے پھر سے 

مزاج اپنا بدلا 

پھر سے جسم-و-جان میں 

ایک فاصلہ ہو چلا ہے  

اس رات کے سفر کا 

اختتام ہی  ہو نہ  پایا 

آنکھوں کو تاریکیوں کی 

سنگت جو  مل گئی ہے  

اب بھلا کیسا سویرا 

کہاں کی روشنی ہے  

دنیا کے سارے اجالے 

ماند  پڑ  گئے  ہیں   

خود سے بات کرتی ہوئی 

سوچ سے رغبت سی ہوگئی ہے 

آخر   یہ پڑاؤ کونسا ہے 

   کاروان  کیوں   رک  گیا ہے 

صحرا سناٹوں کا ہے عادی 

دل آواز کیوں دے رہا ہے 

جانے والوں کی یہ نہیں ہے منزل 

کب سے تجھ کو سمجھا رہا ہے    

اتوار، 6 اگست، 2023

اے ہم زبان میری .....



اے  ہم زبان میری 

تو  ہے زبان میری 

تیرے ہی دم سے 

سجی کل کائنات ہے میری 

گر تو نہیں ہوتی 

 غم  حسین نہیں ہوتے 

پھر  محبت زبان   نہیں ہوتی 

نہ اسکے رنگین ستم ہوتے 

یہ لفظ پیرہن ہیں دل کے 

یہ  مرہم  ہیں  زخموں کے 

ورنہ بات کوئی  کہاں ہوتی 

وجہ جینے کی جسے سمجھے 

انہی کے ہاتھوں میں  جان ہوتی  

بدھ، 7 جون، 2023

مان لے ایک بار دل کی اپنی ...


اس شام کا بھی دل جلا ہے 

اسے جلتا ہوا سورج ملا ہے

 سورج کو آج کیا ہوا ہے 

زمین کی تمازتوں سے 

خود اپنی   حرارتوں  میں 

سب کو دہلا کے رکھ دیا ہے 

آخر  کیسا ہے یہ اشارہ 

دل سہم کے رہ گیا ہے 

شاید یوں ہی اچانک 

زمین آسمان کے موسم 

رہ جاینگے بدل کے 

دنیا کا یہ نظام سارا 

رچا تھا آدمی کی خاطر 

آدمی ہی کے شر سے 

رہ جاےگا  دہل  کے  

آخر چاہیے تجھ کو آسمان اور کتنے

دو دن کی زندگی میں  کیا کیا مچاےگا   تو فتنے  

نادان پہچان رب کی  صفتوں کو 

اسکی  رحمت  کی وسعتوں کو

 چھوڑ  بیقراریاں تو اپنی 

مان  لے ایک بار دل کی  اپنی 

وہیں سے تو رب بولتا ہے 

گرہیں نفس  کی وہی   تو  کھولتا ہے 

تیری نفی ہی تیری بقا ہے 

   اسی کے دم سے   تیری ارتقا ہے   

منگل، 6 جون، 2023

دو پل کی زندگی....



زندگی کا ایک نیا باب بس کھلا  ہی چاہتا ہے  

مجھ کو میری خاموشیوں سے واقف کرانا چاہتا ہے

دو پل کی زندگی کا مطلب سمجھانا چاہتا ہے 

جہاں سوچ ختم ہوتی ہے اس خلا سے ملانا چاہتا ہے 

اچھا ہے دل جلوں کا دل لبھانا چاہتا ہے 

مجھے درد اور دل   کا رشتہ بتلانا چاہتا ہے 

لوگوں کی الجھنوں کو میری گتھیوں سے سلجھانا چاہتا ہے 

چلو مقصد کچھ تو ہاتھ آیا 

دل  ذہن کی شکایتوں سے پل دو پل کو آرام پایا 

کہیں کسی کی خاطر خود کو قرار آیا 

الحمدلللہ دلوں کو جیتنے کا کوئی موقع تو ہاتھ آیا   

یہ رنگ..............

یہ رنگ عجلتوں میں بکھر گئے ہیں   صدیوں   ترتیب جنکی  ایکسی رہی تھی    وہ  آج اپنی حدوں سے نکل گئے ہیں شاید یہ اپنی آزادی  منانا  چاہتے ہیں  ...