ہواؤں میں مہکتی ہوئی سرگوشیاں
شور کرتی ہوئی یہ خاموشیاں
بات کرتی ہوئی تنہائیاں
یہی تو ہیں میرے رازداں
یہی قاصد ہیں میرے
فاصلوں کو سمیٹتے
مجھ میں تم کو ٹٹولتے
مایوسیوں کو جھیلتے
اپنے خیال سے کھیلتے
چلے ہیں صحراون کی طرف
کے کہیں کوئی تارا سنگ ہو
کہیں کوئی اعلان دبنگ ہو
کے تیرے دل کو بھی انہی
چاہتوں کی تلاش ہے
تیرے میرے درمیان
یہی ایک رابطہ خاص ہے
تیری چاہتیں وسعتوں کی چاه تھیں
میرا محور تھیں تیری چاہتیں
محفل میں تیری ہم بھی تھے
یہ اور بات ہے حبیب
ہمارے اور ہی نصیب تھے
دل اور دعا کا ایک ہی راستہ
انسے ہوکر ملتا ہے خدا
سو مجھے تو نہ ملا
ہاں مجھ کو مل گیا میرا خدا

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں