بدھ، 3 مئی، 2023

ہاں مجھ کو مل گیا میرا خدا


ہواؤں میں مہکتی ہوئی سرگوشیاں 

شور کرتی ہوئی یہ خاموشیاں 

بات کرتی ہوئی تنہائیاں 

یہی تو ہیں میرے رازداں 

یہی قاصد ہیں میرے 

فاصلوں کو سمیٹتے 

مجھ میں تم کو ٹٹولتے 

مایوسیوں کو جھیلتے 

اپنے خیال سے  کھیلتے 

چلے ہیں صحراون کی طرف

کے کہیں کوئی تارا سنگ ہو 

کہیں کوئی اعلان دبنگ ہو

کے تیرے دل کو بھی انہی 

چاہتوں کی تلاش ہے 

تیرے میرے درمیان 

یہی ایک رابطہ خاص ہے 

تیری چاہتیں وسعتوں کی چاه تھیں

میرا محور  تھیں تیری چاہتیں 

محفل میں  تیری ہم بھی تھے

یہ اور بات ہے حبیب 

ہمارے اور ہی نصیب تھے 

دل اور دعا کا ایک ہی راستہ  

انسے ہوکر ملتا ہے خدا 

سو مجھے تو نہ ملا 

ہاں مجھ کو مل گیا میرا خدا

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

یہ رنگ..............

یہ رنگ عجلتوں میں بکھر گئے ہیں   صدیوں   ترتیب جنکی  ایکسی رہی تھی    وہ  آج اپنی حدوں سے نکل گئے ہیں شاید یہ اپنی آزادی  منانا  چاہتے ہیں  ...