اتوار، 17 دسمبر، 2023

یہاں ہر کوئی اجنبی ہے............



مجھ کو پتا نہیں ہے 

میں  کہاں آگئی ہوں 

یہاں ہر کوئی اجنبی ہے 

میری جگہ کہیں نہیں ہے 

یہ کیا ستم ہوا ہے 

کیا میرا ہونا ہی خطا ہے 

بس مجھ کو  یہ  پتا ہے 

یہ  برسوں  کی  کاشتکاری 

کسی کی ہو کے رہ گی ہے 

 آج میرا سایا بھی نہ  جانے 

کیوں مجھ سے دور لگ رہا ہے 

شاید یہ بھی  داتا  کی ہے حکیمی 

جو تنہائیوں میں بھی میرا ہے 

میری اداسیوں میں گھل گیا ہے 

کہتا ہےاب   بھی تو میری ہے  

تب  بھی میری تھی  جب تو کہیں نہیں تھی 

پھر یہ درد کیوں اٹھ رہا ہے 

یہ خود سےگلہ  سا کیوں ہوا ہے 

اے  کاش زندگی تو مجھ کو گلے لگاتی 

میں بھی تیرا ہونا جان پاتی 

مگر اب تو وقت ہو چلا ہے 

تیرے میرے  درمیان مختصرسا فاصلہ  ہے  

یہ رنگ..............

یہ رنگ عجلتوں میں بکھر گئے ہیں   صدیوں   ترتیب جنکی  ایکسی رہی تھی    وہ  آج اپنی حدوں سے نکل گئے ہیں شاید یہ اپنی آزادی  منانا  چاہتے ہیں  ...