اتوار، 6 اگست، 2023

اے ہم زبان میری .....



اے  ہم زبان میری 

تو  ہے زبان میری 

تیرے ہی دم سے 

سجی کل کائنات ہے میری 

گر تو نہیں ہوتی 

 غم  حسین نہیں ہوتے 

پھر  محبت زبان   نہیں ہوتی 

نہ اسکے رنگین ستم ہوتے 

یہ لفظ پیرہن ہیں دل کے 

یہ  مرہم  ہیں  زخموں کے 

ورنہ بات کوئی  کہاں ہوتی 

وجہ جینے کی جسے سمجھے 

انہی کے ہاتھوں میں  جان ہوتی  

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

یہ رنگ..............

یہ رنگ عجلتوں میں بکھر گئے ہیں   صدیوں   ترتیب جنکی  ایکسی رہی تھی    وہ  آج اپنی حدوں سے نکل گئے ہیں شاید یہ اپنی آزادی  منانا  چاہتے ہیں  ...