اے ہم زبان میری
تو ہے زبان میری
تیرے ہی دم سے
سجی کل کائنات ہے میری
گر تو نہیں ہوتی
غم حسین نہیں ہوتے
پھر محبت زبان نہیں ہوتی
نہ اسکے رنگین ستم ہوتے
یہ لفظ پیرہن ہیں دل کے
یہ مرہم ہیں زخموں کے
ورنہ بات کوئی کہاں ہوتی
وجہ جینے کی جسے سمجھے
انہی کے ہاتھوں میں جان ہوتی

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں