بدھ، 16 اپریل، 2025

یہ رنگ..............




یہ رنگ عجلتوں میں بکھر گئے ہیں 

 صدیوں  ترتیب جنکی ایکسی رہی تھی  

 وہ  آج اپنی حدوں سے نکل گئے ہیں

شاید یہ اپنی آزادی  منانا  چاہتے ہیں 

اپنے رنگ گمشدہ پھر سے پانا چاہتے ہیں 

قوس و قزح  نے مسترد کر دیا تھا جسکو 

 وہ  آسمانوں میں  اپنی جگہ بنانا چاہتے ہیں 

جنہیں گماں تھا اپنی رنگین منافقت کا 

انہیں آئینہ حقیقتوں کا  دکھانا چاہتے ہیں

یہ عکس  ہیں   خوشی کے دلبری کی ادا ہیں 

تمھیں    شہکار قدرت   بنی نو  بنانا چاہتے ہیں 

چلو چھوڑو بھی  رنگارنگی  کے یہ جھگڑے 

یہ رنگ تمہاری فطرتوں کو آزمانا چاہتے ہیں 

کبھی گر ملے  تم کو فرصت ، ذرا غور کرنا 

یہ رنگ ہیں تمہارے ،تمھیں پانا چاہتے ہیں 

انہی میں  چھپی ہوئی ہے  پہچان آدمی کی 

اپنی پہچان کی ہی خاطر ایک  رنگ ہونا چاہتے ہیں 

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

یہ رنگ..............

یہ رنگ عجلتوں میں بکھر گئے ہیں   صدیوں   ترتیب جنکی  ایکسی رہی تھی    وہ  آج اپنی حدوں سے نکل گئے ہیں شاید یہ اپنی آزادی  منانا  چاہتے ہیں  ...