سنو اے دل یہی منزل ہے
تم میں ازل سے ہی شامل ہے
راہیں تو بہت سی ہیں
مگر تمہارے پاس ایک ہی دل ہے
خواہشیں ہزاروں ہیں
جنہیں پانا مشکل ہے
کبھی سوچا یہ حسن فطرت کا
ایک حسین تحفہ ہے
جو تیری ذات میں شامل ہے
گر دنیا مل بھی جاتی
گر تیرا دل ،دل نہیں ہوتا
جو اپنے آپ میں کامل ہے
خالی گھر کی ویرانی
بے سکونی اور پریشانی
پل میں دور ہوجاے
شمع دل کی گر روشن ہو
تو سب کچھ نظر آے
تیرا دل جان ہی لیگا
خوبی اپنی پہچان ہی لیگا
سیری اسی کو ہوتی ہے حاصل
جو خود موج ہو خود ساحل
آدم کا سبق اول
خاک کی امانت ہے
عجز خاکی کی تیاری ہے
تم میں وہی تو شامل ہے
.jpg)
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں