اتوار، 13 اگست، 2023

زندگی نے پھر سے ............



زندگی نے پھر سے 

مزاج اپنا بدلا 

پھر سے جسم-و-جان میں 

ایک فاصلہ ہو چلا ہے  

اس رات کے سفر کا 

اختتام ہی  ہو نہ  پایا 

آنکھوں کو تاریکیوں کی 

سنگت جو  مل گئی ہے  

اب بھلا کیسا سویرا 

کہاں کی روشنی ہے  

دنیا کے سارے اجالے 

ماند  پڑ  گئے  ہیں   

خود سے بات کرتی ہوئی 

سوچ سے رغبت سی ہوگئی ہے 

آخر   یہ پڑاؤ کونسا ہے 

   کاروان  کیوں   رک  گیا ہے 

صحرا سناٹوں کا ہے عادی 

دل آواز کیوں دے رہا ہے 

جانے والوں کی یہ نہیں ہے منزل 

کب سے تجھ کو سمجھا رہا ہے    

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

یہ رنگ..............

یہ رنگ عجلتوں میں بکھر گئے ہیں   صدیوں   ترتیب جنکی  ایکسی رہی تھی    وہ  آج اپنی حدوں سے نکل گئے ہیں شاید یہ اپنی آزادی  منانا  چاہتے ہیں  ...