اس شام کا بھی دل جلا ہے
اسے جلتا ہوا سورج ملا ہے
سورج کو آج کیا ہوا ہے
زمین کی تمازتوں سے
خود اپنی حرارتوں میں
سب کو دہلا کے رکھ دیا ہے
آخر کیسا ہے یہ اشارہ
دل سہم کے رہ گیا ہے
شاید یوں ہی اچانک
زمین آسمان کے موسم
رہ جاینگے بدل کے
دنیا کا یہ نظام سارا
رچا تھا آدمی کی خاطر
آدمی ہی کے شر سے
رہ جاےگا دہل کے
آخر چاہیے تجھ کو آسمان اور کتنے
دو دن کی زندگی میں کیا کیا مچاےگا تو فتنے
نادان پہچان رب کی صفتوں کو
اسکی رحمت کی وسعتوں کو
چھوڑ بیقراریاں تو اپنی
مان لے ایک بار دل کی اپنی
وہیں سے تو رب بولتا ہے
گرہیں نفس کی وہی تو کھولتا ہے
تیری نفی ہی تیری بقا ہے
اسی کے دم سے تیری ارتقا ہے

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں