زندگی کا ایک نیا باب بس کھلا ہی چاہتا ہے
مجھ کو میری خاموشیوں سے واقف کرانا چاہتا ہے
دو پل کی زندگی کا مطلب سمجھانا چاہتا ہے
جہاں سوچ ختم ہوتی ہے اس خلا سے ملانا چاہتا ہے
اچھا ہے دل جلوں کا دل لبھانا چاہتا ہے
مجھے درد اور دل کا رشتہ بتلانا چاہتا ہے
لوگوں کی الجھنوں کو میری گتھیوں سے سلجھانا چاہتا ہے
چلو مقصد کچھ تو ہاتھ آیا
دل ذہن کی شکایتوں سے پل دو پل کو آرام پایا
کہیں کسی کی خاطر خود کو قرار آیا
الحمدلللہ دلوں کو جیتنے کا کوئی موقع تو ہاتھ آیا

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں